نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم


خاموشی سے ادا ہو رسمِ دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم


یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں

وفاداری کا دعوی کیوں کریں ہم


وفا، اخلاص، قربانی، محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم


ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم

تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم


کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے

تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم


اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں 

فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم


نہیں دنیا کو جب پرواہ ہماری

تو پھر دنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم


برہنہ ہیں سرِ بازار تو کیا

بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم


ہیں باشندے اِسی بستی کے ہم بھی 

سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم


چبا لیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچہ 

تمہیں راطب مہیا کیوں کریں ہم


پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں 

زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم


یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی

یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم